وبا ٕ ہے یا بلا

(محمد اقبال سروبہ)

زمیں پر جو اکڑ کر چل رہے تھے مست ہوکر
وہ منہ کے بل گرے ہیں دیکھ کیسے پست ہوکر
جو اپنے تھے پراٸے اب نظر آنے لگے ہیں
بجاٸے قرب کے سب دور اب جانے لگے ہیں
وبا ہے یا بلا ہے جو نگل جاٸے نہ بستی
نظر انسان کو آتی ہے اپنی جان اب سَستی
ہمارے نامہِٕ اعمال میں ہیں بس خطاٸیں
دواٸیں ساری باطل ہیں مگر حق ہیں دعاٸیں
ذرا سی چیز نے اوقات بھولی ہے بتادی
خود انسانوں کو آٸینے میں صورت ہے دکھادی
عظیم انسان کار خیر میں جو بھی مگن ہے
اسے اپنی نہیں بس آدمیت کی لگن ہے
یہی عظمت تو ہے انسانیت کا ایک عنواں
یہی وہ زاد راہ ہے جو فقط ہے اپنا ساماں

Comments are closed.