خوفِ کورونا

(رونق حیات)

(خوفِ کورونا(نظم

یہ آفت کیسی آفت ہے کہ جو ٹلتی نہیں ہمدم
یہ آفت کیسی آفت ہے
کہ جس نے گوشۂ تنہائی کو آباد کر ڈالا
محبت کے فسانے کا جہاں برباد کر ڈالا
یہ آفت کیسی آفت ہے
کہ جس میں ہر قدم ہر پل دُہائی ہی دُہائی ہے
اذّیت نے نئے آزارکی دنیا بسائی ہے
یہ آفت کیسی آفت ہے
کہ جس نے ہر دوا کو اور ہر دُعا کو بے اثر کر کے
شجر پہ شاخِ گُل کو رکھ دیا ہے بے ثمر کر کے
یہ آفت کیسی آفت ہے
کہ جس نے پھول کیا ہر کلی پر موت لکھ دی ہے
ہماری شاہراہِ زندگی پر موت لکھ دی ہے
یہ آفت کیسی آفت ہے
کہ جس میں نغمگی کی شہ رگوں میں زہر اُترا ہے
جہانِ صبحِ نو اور رتجگوں میں زہر اُترا ہے
یہ آفت کیسی آفت ہے
(۲)
کہ جس میں گیت خوابِ خاکداں ہونے لگے آخر
بدن بیٹھے بٹھائے نیم جاں ہونے لگے آخر
یہ آفت کیسی آفت ہے
کہ جس میں قُربتوں سے قُربتیں خود فاصلے پر ہیں
رفاقت کے چراغوں سے شبیں خود فاصلے پر ہیں
یہ آفت کیسی آفت ہے
کہ جس میں آہٹوں اور دستکوں پر خوف رکھا ہے
دیارِ دل کی سرحدوں پر خوف رکھا ہے
یہ آفت کیسی آفت ہے
کہ جس میں پھول شاخوں پراگر قسمت سے کھلتے ہیں
بجائے فصلِ گُل کے خُشک پتوں سے وہ ملتے ہیں
یہ آفت کیسی آفت ہے
کہ جس میں آنگنوں میں دُھوپ کے پائوں اُتر آئے
دُعا تھی جب کہ یہ سب کی یہاں چھائوں اُتر آئے
یہ آفت کیسی آفت ہے
کہ جس میں آرزوئے دل کی سانسیں ٹوٹ جاتی ہیں
محبت کے ہر اک نغمے کی تانیں ٹوٹ جاتی ہیں
یہ آفت کیسی آفت ہے
کہ جس میں جگنوئوں کی روشنی کے خواب ادھورے ہیں
ستارے، آفتاب و ابر اور مہتاب ادھورے ہیں
یہ آفت کیسی آفت ہے
(۳)
کہ جس میںاوّل و آخر ہمیں رونا ہی رونا ہے
یہ دنیا اب وہ دنیا ہے جہاں ـــــ’’ـخوفِ کروناـ‘‘ہے
یہ آفت کیسی آفت ہے
کہ جس میں سُولیوں پر جھُولتی ہم سب کی جانیں ہیں
ہماری بستیوں میں اب اذانیں ہی اذانیں ہیں

Comments are closed.