ہمیں کرونا سے ڈرنا نہیں ہے، لڑنا ہے

(نسیمِ سحر)

حقیقتوں سے مُکرنا نہیں ہے، لڑنا ہے
کچھ اَور اب ہمیں کرنا نہیں ہے، لڑنا ہے
کہا ہے خوب ہمارے وزیرِ اعظم نے
’ہمیں کرونا سے ڈرنا نہیں ہے، لڑنا ہے‘
مقابلہ ہے ہمارا وَبائے مہلک سے
سو جیتے جی ہمیں مرنا نہیں ہے، لڑنا ہے
بہادری سے یہ آفت بھی زیر کر لیں گے
دلوں میں دہشتیں بھرنا نہیں ہے، لڑنا ہے

قدم قدم پہ کرونا سے جنگ ہے اپنی
لڑے بغیر گزرنا نہیں ہے، لڑنا ہے
سپاہیوں کی طرح صف بہ صف ہیں ہم اس میں
کسی کو اس میں بکھرنا نہیں ہے، لڑنا ہے
ٹھہرکے موت کے ہاتھوں شکست کیوں کھائیں؟
ہمیں کہیں بھی ٹھہرنا نہیں ہے، لڑنا ہے
یہ کوئی قدرتی آفت ہے ، یا کوئی سازش
تنازعوں میں اُترنا نہیں ہے، لڑنا ہے
اگرچہ اُن کا بھی دُکھ ہے جو جان ہارے ، مگر
نسیمؔ آہیںبھی بھرنا نہیں ہے، لڑنا ہے

Comments are closed.