کرونا امدادی پیکج

(رابعہ ناز)

اسے تو معلوم ہی نہیں تھا
کہ آنے والے یہ لوگ سارے
کیوں اس کی امداد کر رہے ہیں
کیوں اس کی جھولی کو بھر رہے ہیں
وہ ہنس رہی تھی
خوشی سے ہرکام کر رہی تھی
کہ اس کو لگتا تھا عید آئی
جو گھر میں پکوان پک رہے ہیں
یا پھر کوئی لنگروں کے دن ہیں
جو تھیلے راشن کے بٹ رہے ہیں

اسے خوشی تھی
کہ شاید اب یہ
جو سلسلہ ہے نہیں رکے گا
میں اس کی امداد کو گیا جب
تو اس نے مجھ سے کہا کہ بھیا
نہ جانے کیوں میرے در پہ
ہرروز اک مسیحا
میری مدد کو پہنچ رہا ہے
میری دعا ہے
یہ جس وجہ سے بھی ہو رہا ہے
وجہ سلامت رہے وہ بھیا
مجھے خبر ہے یہ عید ہے نا
یا پھر ہے رمضان کا مہینہ۔۔۔
میں لوٹ آیا
کہ مجھ سے کچھ بھی کہا گیا نا
میں کیسے کہتا
کہ ہم نے خود ہی تو طے کیے ہیں
ثواب کے دن حساب کے دن
زکوۃ کے دن

Comments are closed.