قیامت آچکی ھے

(نیلما ناھید درانی)

قیامت آچکی ھے
نگر سونے ھوئے ھیں
وہ سانسیں جن کو اوڑھے
جی رھے تھے
انھی سانسوں سے اب
ڈرنے لگے ھیں
عجب ھے موسم گل میں
خزاں جیسی اداسی ھے
سنہری دھوپ میں زردی ھے
اور اپنے ھی سایوں سے
ڈرے، سہمے ھوئے انساں
گھروں میں اب مقید ھیں
سبھی شیر اور گیدڑ، ھاتھی اور چوھے
بس اپنا منہ چھپانا چاھتے ھیں
بس اپنے ھاتھ دھونا چاھتے ھیں
وہ چیزیں جو دکانوں پر
کبھی بے مول ان کی راہ تکتی تھیں
سبھی نایاب ھیں
اور شیلف سب خالی پڑے ھیں
جو چہرے خوف اوڑھے گھومتے ھیں
یہ خالی شیلف ان پر ھنس رھے ھیں

Comments are closed.