بہار کے دنوں میں اجاڑ موسم

(شہناز نقوی)

بہار کے دنوں میں اجاڑ موسم (کرونا)

اب کے کیسی بہار آئی ھے

جھاڑیاں بن گئے ھیں پھول سبھی

اور مہک بھی نہیں ھے پھولوں میں

اک اداسی ھے سارے چہروں پر

کسطرح کا آگیا موسم

اب کے کیسی بہار آئی ھے

کچھ چہک بھی نہیں پرندوں کی

اور سنسان سارے رستے ھیں

شہر خاموش ھو گئے جیسے

اتنے تنہا تو ھم کبھی نہ تھے

اک اداسی ھی گیت گاتی ھے

ایسے قصے تو پہلے سنتے تھے

شہر کے شہر یوں ھی مٹتے تھے

انھی قصوں کی ایک سرگوشی

آج بھی تو سنائی دیتی ھے

ذرد بادل بھی چھٹ ھی جائیں گے

جو دریچوں میں ھیں رکھے یہ چراغ

ایک دن پھر سے جل ھی جائیں گے

وھی موسم پلٹ کے آئیں گے

میرے اللہ رحم کر ھم پر

ھر خوشی پھر سے لوٹ کر آئے

زندگی پھر سے لوٹ کر آئے

Comments are closed.