ویکسن کا انتظار اک عذاب ہے

(عدیل رزاق)

قطعات
1

ویکسن کا انتظار اک عذاب ہے
یہ کررونا وائرس اک عذاب ہے
زہر کی تکلیف تو چُھوریے
یہاں تو تَریاق اک عذاب ہے

2

اے میرے وطن
لَبوں پہ تیرا ہی زکر رہا آج شب
آغازِ ابتدا سے وجودِ انتہا تک
حرفِ التجا سے حرفِ دعا تک
خاموشی سے! بَشر بَشر کی پُکار تک

غزل

چلو سِینے کو سُلگنے دیتے ہیں
اپنے اندر کسی کو جلنے دیتے ہیں

مزاق ہی مزاق میں آج
حقیقت کو بھی کہنے دیتے ہیں

سر جو جُھکا ہے اب کررونا سے
اِسے سجدوں میں ہی رہنے دیتے ہیں

Comments are closed.