عہد شفا آنے کو ہے

(فاریہ حمید چودھری)
عہد شفا آنے کو ہے

صبح بہار نے پھر دستک دی ہے مرے دریچے پر
چڑیاں اور ایک فاختہ بھی پر پھیلائے
منڈیر پرباہر دانہ چگنے آئی ہے
تنویر امید بھی کرنوں کے جلو میں
تمازتوں کا غازہ مل رہا ہے زمیں کے چہرے پر
ذرا سی دھوپ بھر لی ہے میں نے بھی آنچل میں
شعاعیں کچھ زندگی کی اور حرارت کی مہک
جو بھیجوں گی دعا کی صورت
ان بیمار جسموں کو
جن کو برودت کی دیمک کھائے جاتی ہے
پژمردہ آنکھوں کو
حوصلوں کے منظر بھیجوں گی
جن کو ہوائے نادید ہ رلائے جاتی ہے
ہوائے نادید ہ
بلائے نادید ہ
جو در آئی ہے مرے صحن چمن میں ناگہاں
لمس زندہ سارے گروی رکھ لئے ہیں اس نے
راستے بھی رہن ہیں روزن بھی
مگر صبح بہار ایستادہ ہے مرے دریچے میں
چڑیاں ، فاختہ اور کونسلیں نئی درختوں پر
کہ رہے ہیں سبھی
اے بنی نوع انساں!
امید زیست کا علم اٹھا کے
حرف دعا سے راستے بنا کے
رہو منتظر تم عہد شفا کے
جو آنے کو ہے
اور ہوائے نادید ہ جلد جانے کو ہے

Comments are closed.