جہاں میں اِک وباء آئی ہُوئی ہے

(محمد ادریس قریشی)

الَم سے آشنا ہے میری ہستی
کہیں پر کھو گئی ہے شوخ مستی
بہت سکتے کے عالم میں ہے بستی
چمک چہرے کی گہنائی ہوئی ہے
جہاں میں اِک وباء آئی ہوئی ہے

یہاں مِلنا ملانا جرم ٹھہرا
اذّیت کا ہے کتنا گھاؤ گہرا
لگا آزاد انسانوں پہ پہرا
دوا جس کی یہ تنہائی ہوئی ہے
جہاں میں اِک وباءآئی ہوئی ہے

ہیں جو محروم ایسے میں شفاء سے
اُنھیں امّید رکھنی ہے خُدا سے
سب اُنکےساتھ شامل ہیں دعاسے
نظرآنکھوں کی دھندلائی ہوئی ہے
جہاں میں اِک وباء آئی ہوئی ہے

معالج ہیں مسیحاؤں کی صورت
پُولیس افواج ہم سب کی ضرورت
مٹا دی ہے علاقائی کدورت
یہ سب دنیا ہی اپنائی ہوئی ہے
جہاں میں اِک وباء آئی ہوئی ہے

Comments are closed.