دعا عاجزانہ

(لطیف الرحمن لطف)

ہے تیرے حضور اک دعا عاجزانہ
خدایا مصائب سے ہم کو بچانا
گھڑی ہے مصیبت کی جائیں کہاں ہم
نہیں ہے ہمارا کوئی اور ٹھکانہ
تعاقب اجل کر رہی ہے سبھی کا
گرفتار وحشت ہے ہر ہر گھرانہ
وباوں کو ٹالیں، بلاوں کو ٹالیں
کرم کا سوالی ہے سارا زمانہ
معافی گناہوں کی ہم مانگتے ہیں
ہمیں قہر کا مت بنا تو نشانہ
ہے شہروں سے غائب ہوئی زندگی اب
یہاں قریہ قریہ ہوا ہے ویرانہ
یہی اک دعا ہے ہمارے لبوں پر
کہ لوٹ آئے پھر وقت مولا !! پرانا
چھٹیں جلد ہی دہشتوں کے یہ سائے
مساجد میں بے خوف ہو آنا جانا
کڑا وقت ہو یا خوشی ہو ،غمی ہو
اطاعت کا خوگر ہمیں تو بنانا
برائی سے بچنے کی توفیق دے دے
ہدایت کے رستے پہ ہم کو چلانا

Comments are closed.