دانائی کے دفتر سے

(شبیر احمد حمید)

کئی دن سے وبائیں سر اٹھائے چل رہی ہیں
موت گنتی گن رہی ہے آج اتنے ، آج اتنے کی
جہالت ، آگہی مد مقابل آگئے ہیں
جہل زنگین نیزہ ہاتھ میں تھامے ہوئے ہے
آگہی سٹپٹاتی ہے
وبا ہے در وبا ہے در وبا ہے یہ
مگر کچھ فرقہ فرقہ کھیلنے والے ابھی بھی
اپنے اپنے عقیدے اگلتے جا رہے ہیں
شعائر بھی حدف پر ہیں
دعاوں کو تمسخر منہ چڑھاتا ہے
عبادت کشمکش میں ہے
کہیں دانش و نادانی کا پھڈا چل رہا ہے
آگہی نے ماسک پہنا،دوریاں اوڑھی ہوئی ہیں
جہالت بھی بضد ہے اور بزدلی کے طعنے دیتی جارہی ہے
مگر سچ ہے اسے ہم آخری موقع سمجھ لیں،
آخری لمحہ سمجھ لیں
تو بچیں گے ہم

Comments are closed.