پیغام سربراہان اقوام عالم کے نام

(طاہر گیلانی)

سنو کہ ابھی وقت ہے
تمھیں کہ جنہیں اقوام عالم کی نمائندگیاں حاصل ہیں
تم جو اپنی اپنی قوم پر حاکم ہو
تم جو صاحب اختیار ہو
آپس کے تمام اختلافات نظرانداز کرتے ہوئے
اپنی اپنی انا اور قومی مفادات کو پس پشت رکھتے ہوئے
مل بیٹھو
سوچو، غور کرو، انفرادی و اجتماعی احتساب کرو
دیکھو کہ تم میں کون کیا کر رہا ہے
کہیں ایسا تو نہیں کہ تم جو ذمہ دار ہو کہ اپنی اپنی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے
اپنی اپنی قوم کی بہتری کے ساتھ ساتھ
ایک دوسرے کی قوم کا بھی خیال رکھو
وقت ہے کہ تم سب مل بیٹھو اور سوچو
روئے زمین پر بنی نوع انسان جو کہ تمھاری قوموں کی صورت تمھارے زیرنگیں ہیں
جن کی بھلائی، انصاف، خوشحالی، امن، آزادی اور حفاظت کی ذمہ داری تمہیں تمھاری قوموں نے سونپ رکھی ہے
تم میں کوئی ایک بھی یہ ذمہ داری انفرادی طور پر اس دور میں پوری نہیں کر سکتا
تمہیں اجتماعی تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے
یقیناً یہ آفت “کرونا”
جس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے
جس نے ہو کا سا عالم طاری کر رکھا ہے روئے زمین پر
جس نے انسان کو موت کے شدید ترین خوف میں مبتلا کر رکھا ہے
جو دنیا پر ایک آسیب بن کر چھایا ہوا ہے اور درحقیقت تم کیا ساری انسانیت بے بس و مجبور نظر آرہی ہے
غور کرو تم سب پر تمھاری قوم سمیت زمین تنگ ہو چکی ہے
گھروں میں محصور ہو آزادی چھین لی گئی ہے
انسان مر رہے ہیں بلا امتیاز مذہب قوم رنگ و نسل
بھوک ہے افلاس ہے بیماری ہے اور یہ عفریت “کرونا” جو قابو میں آنے کا نام ہی نہیں لے رہی
ہزاروں جانیں نگل چکی
کہیں ایسا تو نہیں کہ تم میں سے کسی طاقتور نے کسی انتہائی کمزور پہ زمین تنگ کر رکھی ہو
وہ قوم بھوک افلاس اور بیماری سے مر رہی ہو
کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی ظلم میں حد سے بڑھ گیا ہو
تم میں سے وہ جنہیں ظالم کو ظلم سے روکنا اور مظلوم کو ظلم سے بچانا ہو
خاموش ہوں
تماشائی ہوں
تم غور کرو تو تمھیں اگر ایسا ہے تو نظر آ جائے گا
جیسا کہ کشمیر، فلسطین، بھوٹان، لیبیا، عراق شام وغیرہ
یا کوئی بھی اور قوم جو کہیں بھی کسی کے بھی ظلم و جبر کا شکار ہو
تم میں سے کوئی بھی جو اس قوم پر ظالم ہو
تمہیں سوچنا چاہیے
ان مظلوم قوموں کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق دینا چاہیے، حق دلوانا چاہیے
کہیں ایسا تو نہیں کہ کوئی آفاقی طاقت
جسے میں مانتا ہوں تم مانتے ہو یا اگر کوئی نہیں بھی مانتا
ان مظلوموں کی آھ و پکار سن کے
ان کی مدد کیلئے برسرپیکار آگئی ہو
تمہیں سوچنا چاہیے
تم میں جو کوئی بھی جس حوالہ سے بھی ظلم میں حد سے بڑھنے والا ہے
اپنا جائزہ لے احتساب کرے
تم ملکر ایک نیا دستور نیا ظابطہ اخلاق بناؤ
تم میں سے ہر ایک ہر ایک کی قوم کی بھلائی، خوشحالی، امن اود آزادی و حفاظت میں ایک دوسرے کا معاون ہو
اور وہ آفاقی طاقت
جس کے غیظ و غضب کا انسان کبھی متحمل تھا، نہ ہے نہ ہوسکے گا
اسکی تائید و نصرت کو اپنا حامی و ناصر کرلو نہ کہ دشمن
سنو کہ ابھی وقت ہے

Comments are closed.