اے مالکِ ارض و سما

(محمد علی منظر)

اے مالکِ ارض و سما کچھ تو خیال کر میرے نگر کی میرے خدا دیکھ بھال کر

رہتا ہے کوئی شام کے تارے کا منتظر
نکلو میں سیر کرنے کو ایسا کمال کر

یاروں سےایک بار میں پھرسے گلے ملوں
ٹوٹے ہوئے ہیں رابطے ان کو بحال کر

اندھیارا ہے،بلائیں ہیں، مشکل ہے یہ سفر
اپنے کرم سے رکھ دے یہ رستہ اجال کر

مانگی ہے ایک بندہ عاجز نے یہ دعا
اس کو قبول کرکے تو ہم کو نہال کر

یہ تجھ کومانگتے ہوئے آتی ہے کیوں حیا دیتا بے حساب وہ ،تو بھی سوال کر

Comments are closed.