مجھے آدمی کی بقا چاہیی

(ڈاکٹر محمد کامران)

پیر ومرشد
مجھے عارض و گل کی باتیں نہیں چاہییں
آدمی کی بقا چاہییے
ایک چھوٹے جراثیم سے جنگ ہے
جس سے لڑنے میں کوٸ بھی مشکل نہیں
اپنے گھر میں رہیں
ہاتھ منہ دھوٸیے
اپنے ماحول کو صاف کر لیجییے
اپنے عزم و یقیں سے مدد لیجییے
اپنے گھر میں مصلیٰ بچھاکر دعا کیجییے
ایک محتاط سا فاصلہ
صرف محتاط سا فاصلہ
اور کچھ دن میں سب ٹھیک ہو جاۓ گا
ٹھیک ہوجاۓ گا

Comments are closed.