کچھ کہو نا

(جلیل عالی)

کچھ کہو نا!
۔
ستاتا ہے تمہیں جب جرم کا احساس
تو توبہ نہیں کرتے
صدا اپنے ضمیروں کی
دبا رکھی ہے
آتش بار ہتھیاروں کے
انباروں تلے تم نے
اگر پھر بھی نہیں دبتی
تو اپنے خوف کو
خونی بلاؤں میں بدل کر
دہشتیں بازارتی فلمیں بناتے ہو
دکھاتے ہو
کہ آخر نیست و نابود کر سکتے ہو
اپنی طاقتِ تدبیر سے اِن کو
گنہ انساں کی کمزوری ہے
کر جاتا ہے
شرمندہ بھی ہوتا ہے
پر اپنے وحش میں
تم نے تو ہم جنسی تلذذ کو بھی
قانونی تقدس دان کر ڈالا
نئی تہذیب سے “اگلی” کسی تہذیب کا
اعلان کر ڈال
تم اپنے آپ سے مفرور بیماروں کا
ریوڑ ہو
تمہیں ہے زعم
اپنے ڈھب زمانے کو چلانے کا
مگر دیکھو
ذرا سی شے نے
کیسے زیر کر رکھا ہے
اِس دھرتی کا ہر کونہ
ہے مُختل ہر کسی کا جاگنا سونا
یہ ڈر پیہم
کہ اپنے ساتھ اپنے ہاتھ سے
کس دَم ہے کیا ہونا
گلوبی گاؤں کے بالا نشینو!
کس کی مرضی چل رہی ہے
کاروبارِ زندگی پر،
ہر حصارِ زندگی پر،
خود تمہارے اپنے ذہن و جسم پر؟
پوچھے کرونا
کچھ کہو نا!

Comments are closed.