انسان

(اسلم گورداسپوری)

ازل سے فطرت کے اژدھوں سے, ہماری جنگ و جدل رہی ہے
ازل سے ہم لڑتے آے ہیں, وہ زلزلے ہوں کہ یا وبائیں

ہمارے عزم و یقیں کے آگے, کبھی کوئی شے ٹھہر سکی ہے؟
جو موت سے بھی نہیں ہیں ڈرتے, انہیں کرونا سے مت ڈرائیں

کہاں گئے عاشقوں کے جذبے, کہاں گئیں حسسن کی ادائیں
نہ اب کہیں ہجر کا ہے رونا, نہ اب کہیں وصل کی صدائیں

بہت گناہگار ہم ہیں جن پر
حرم کے در ہو گئے مقفل

کہاں پہ اب جا کے ماتھا ٹیکیں, کہاں پہ ہم مانگیں اب دعائیں!!

Comments are closed.