وَبا کے موسموں میں اِک دُعا

(حسن عباس رضا)

اخوت ، پیار، شفقت
اور حفاظت کا عَلَم تھامے ہوئے
اہلِ قلم ، فنکار اور اس دیس کے سارے محافظ
آئیں، اور اُن بستیوں کا رُخ کریں
جن کے گھروں کے آنگنوں، کمروں،
شفاخانوں میں
مرگِ ناگہاں کا جال پھیلا ہے۔

محبت اور چاہت سے سجی
تسبیح کا اِک ایک موتی
خاک کے دامن میں گرتا جا رہا ہے،
اور جہاں سہمی، ڈری،
دم توڑتی انسانیت کے فرشِ نازک پر
کرونا کی وبا کا رقصِ وحشت
زندگی کی تال کو
بے تال کرتا جا رہا ہے ……

آئیں ، اُن سب کی مدد کو
جو تلاشِ رزق میں گھر سے نکلتے
اور خالی ہاتھ آتے ہیں
کہ جن کے سرد چولہوں سے کراہیں پھوٹتی ہیں
بے بسی جن کے درودیوار پر چھائی ہے
اور دہلیزِ جاں ماتم کناں ہے۔

اے خُدائے لم یزل!
اُن سب مسیحاؤں کو، سارے محسنوں کو
اپنی بے پایاں محبت اور شفقت کے
گھنے سائے میں رکھنا
جو دکھی انسانیت کی ٹوٹتی سانسوں کو
جینے کا سہارا دے رہے ہیں
بحرِ غم میں ڈوبنے والوں کو
جیون کا کنارہ دے رہے ہیں

اے خُدائے مہرباں!
اس پاک دھرتی کے محافظ ،
جو ہماری عزتوں کے بھی محافظ ہیں
اُنہیں اس معرکے میں کامراں رکھنا

خُدائے بحرو بر!
اس بار ہم کو
زندگی اور موت کی اس جنگ میں بھی
سرخرو رکھنا،
ادھڑتی زندگی کی
آبرو رکھنا

Comments are closed.