حد درجہ التفات کا موسم گزر گیا

(محمد علی منظر)
حد درجہ التفات کا موسم گزر گیا
دل سے معاملات کا موسم گزر گیا

چاروں طرف خزاں نے ہی ڈیرے جما لیے پھولوں کا اور پات کا موسم گزر گیا

ہم کو بہار ہی میں جدائی نے آ لیا
اب ان سے دل کی بات کا موسم گزر گیا

برسوں گزرگئےہیں کہ گھر ہی میں قید ہوں
یعنی مری، سوات کا موسم گزر گیا

لمبی جدائی نے مجھے بے حال کر دیا ہاتھوں میں اس کےہاتھ کاموسم گزرگیا

ہے سوگوار چاند تو تارے اداس ہیں
گویا وصال رات کا موسم گزر گیا

جاگاہوں خواب سے تو یہ دنیا بدل گئی میری حسیں حیات کا موسم گزر گیا

Comments are closed.