اہلِ زمین کے لئے امتحان

(رانا عبدالرزاق عاصی صحرائی)

مولیٰ کی اس زمین پر آیا ہے امتحاں
بن کر عذاب دہر پہ چھایا ہے امتحاں
لفظِ ’’کرونا‘‘ سُن کے ہیں گھبرا گئے سبھی
خود کو ہیں آبِ فکر میں نہلا گئے سبھی
گوشہ نشین ہو گئے سارے جہاں کے لوگ
سب کو ہے فکر لگ گئی کہ لگ نہ جائے روگ
ہر اک کو اپنی جاں کی پڑی بے سکون سب
ہر شخص کی دعا ہے کہ اُس کو بچا لے رَب
ایسے بھی لوگ دیس میں جن کو نہیں ہے فکر
کہتے ہیں: ’’کافی ہے ہمیں اپنے خدا کا ذکر !‘‘
کہتے ہیں: ’’وقت موت کا لکھا ہے ایک دِن !‘‘
’’ ٹل کر رہیں بیماریاں ایسی علاج بِن ‘‘!
اُفق ، شفق کو دیکھئے سنساں پڑے ہوئے
شاہد ہے عاصیؔ سجدے میں انساں پڑے ہوئے

Comments are closed.