فلک سر پر اُٹھاتے ہیں کہ جب نزلہ لگا نہ ہو

(عطا محمد عطا)

فلک سر پر اُٹھاتے ہیں کہ جب نزلہ لگا نہ ہو
کرونا سے وہ گھبرائیں جنہیں خوفِ خدا نہ ہو.
شکایت کیا ہو وائرس سے بھلے مہمان ہو جائے
نہ چھیڑے روئے زیبا کو اگر غازہ اُڑا نہ ہو.
مہکتے رہنا خوشبو سے یہی شانِ مسلماں ہے
وہ ستھرا صاف رہتا ہے اگرخوفِ وبا نہ ہو.
ہے جاں بے صرفہ کب اتنی کہ تنہائی سے تھک جائیں
یہ مَیلا وقت جانے تک کوئی گھر سے رِہا نہ ہو.
رقیبِ جاں کی فطرت میں ہے چھپ کے وار کر جانا.
اگر بدلہ نہ لے پاؤں تو مجھ سے ناشتہ نہ ہو.
تلاش و جستجو کرنا مری عادت پُرانی ہے
میں گھبراتا نہیں چاہے نظر میں راستہ نہ ہو.
سپاہی بن کے آیا ہے زمیں والوں کی محفل میں
یہ چھیڑے گا اُسے بے شک جسے ماں کی دعا نہ ہو.
مرے مالک! کرم فرما, مٹا دے اس مصیبت کو
نہ ہہ نغمے رہیں باقی اگر تیرا عطا نہ ہو.

Comments are closed.