شہر بھی بند ہے

(ڈاکٹر محمد اشرف کمال)

خوف سے بچنے کے منصوبے بنا کر رکھوں
کچھ امیدوں کو میں آنکھوں میں سجا کر رکھوں
شہر در شہر ہے مسموم ہوا کا خطرہ
دور دنیا سے کہیں خود کو چھپا کر رکھوں
چھو نہ لے کوئی جراثیم کہیں سے مجھ کو
فاصلہ شہر کے لوگوں سے بنا کر رکھوں
دور رہتے ہوئے سوچوں اسے لمحہ لمحہ
اس طرح پیار کے رشتوں کو بچا کر رکھوں
شہر بھی بند ہے ملنا بھی ضروری ہے کمال
دل میں خواہش کو کہاں تک میں دبا کر رکھوں

Comments are closed.