چیلنج

(ناصر محمودناصرؔ)

جذبۂ شوق سے ایمان سے لڑ سکتے ہیں
شیریزداں ہیں بڑی شان سےلڑ سکتے ہیں
دشت پرخوف میں زندان سے لڑ سکتے ہیں
یہ مسیحا میرے جی جان سے لڑ سکتے ہیں
لشکر حق کے سپاہی ہیں مرے زہرہ جبیں
بحر ظلمات میں شیطان سے لڑ سکتے ہیں
عزم وہمت کے یہ پیکر ہیں یقیناً سارے
یہ تو بپھرے ہوئے طوفان سے لڑ سکتے ہیں
ان کو ہمت میرے مولا نے ودیعت کی ہے
خوف سے قحط سے بحران سے لڑ سکتے ہیں
خالق ارض سمٰوات کے عاجز بندے
ہاتھ خالی تو بھی گھمسان سے لڑ سکتے ہیں
یہ تو بس ایک کرونا ہے کوئی بات نہیں
میرے شاہین تو طوفان سے لڑ سکتے ہیں
اس لیے تجھ کو کرونا کہیں جانا ہوگا
بحر مردار کی تِہ تیرا ٹھکانہ ہوگا

Comments are closed.