اِن آفتابی مُقاموں سے گزر جا

(عدیل رزاق)

اِن آفتابی مُقاموں سے گزر جا
سُن ! اپنے اندر سے گزر جا

جنوں کی کوئ حد نہیں ہوتی
تُو ! آج حدِ گُماں سے گزر جا

جہاں جہاں سے گزرا تھا کاروانِ بہار
تُو ! بھی وہاں وہاں سے گزر جا

موتی مِلتے ہیں سمندر چاک کرنے سے
ان طلاطم خیز موجوں سے گزر جا

تجھے تو رابطہ مقصود ہے بس
دکھتا کیا ہے طور سے گزر جا

Comments are closed.