کورونا وائرس

(آمنہ عالم)

مثنوی

کورونا وائرس

(سائنسی کلام)

میں وائرس ہوں بہت مختصر ہے جسم مرا

بدن پہ تاج سجا اور ” کرونا” اسم ں مرا

میں ایک خرد حیاتی وجود ہوں صاحب

میں جسم رکھتے ہوئے بھی نظر سے ہوں غائب

میں پھیلتا ہی چلا جاتا ہوں وبا بن کر

کبھی کبھی تو کسی سے ملوں قضا بن کر

مرے بدن کا پروٹین سے بنا ہے نظام

جہاں میں پائو گے میری ہزار ہا اقسام

مرا شکار بنیں میز بان کے خلیات

انہی کے بل پہ بناتا ہوں اپنے جیسی ذات

ہوں قدرتی کوئی آفت کہ لیب میں ڈھالا ہے؟

تھا کون جس نے مجھے لیب سے نکالا ہے؟

بہت خبیث کسی ذہن نے کیا ایجاد

ارادتاً کہ خطا کے سبب ہوا آزاد؟

بشر نے خود ہی بشر پر بپا قیامت کی

ہوس ہے مال کی یا جنگ ہے معیشت کی؟

یہ اک خیال ہے جس کا ابھی سراغ نہیں

کروں میں غور مرے پاس تو دماغ نہیں

گو دن بہار کے ہیں چار سو ہی پھول کھلے

دھواں دھواں سے ہیں چہرے ،جہاں میں دھول اڑے

مری نظر میں برابر ہیں مفلس و نادار

ہر ایک قوم ہر نسل بنی میرا شکار

اگر ضعیف ہے قوت مدافعانہ جناب

بڑا محال ہے لانا مرے وجود کی تاب

گو مختصر سی مری ہستی مگر خبیث ہے ذات

مرے خطر سے کوئی ملاتا نہیں کسی سے ہاتھ

میں جا کے خلیے میں اپنا گھر بناتا ہوں

بہت مزے سے وہاں نسل کو بڑھتا ہوں

نئے زمانے کی عفریت میں ہے میرا شمار

کہ چھوت چھات پہ چلنا رہا ہے میرا شعار

گلے کی راہ سے کرتا ہوں پھیپھڑوں پر وار

ہو میرے وار سے سانس کا عمل دشوار

نظر میں جن کی برا ،عورتوں کے سر پہ حجاب

ہے میرے خوف سے چہروں پہ آج ان کے نقاب

ہر ایک فرد کے دل میں مرا ہی خوف بسا

نہیں ہے اب بھی مگر آدمی کو خوف خدا

ملا جو توڑ مرا ، جنگ ہار جاؤں گا

پہ اس سے قبل معیشت کو مار جاؤں گا

Comments are closed.