تو نے سب کچھ بنایا ہے ترتیب سے

(اشرف جاوید ملک)

تو نے سب کچھ بنایا ہے ترتیب سے
کچھ بھی ہٹ کر نہیں تیری ترکیب سے
تیری مرضی سے ہے عالم ِ دوجہاں
بس یونہی بے ارادہ تو کچھ بھی نہیں
تیرے نزدیک جینا ہے برتر ہنر
زندگی سے زیادہ تو کچھ بھی نہیں !
مالک سوز وساز ِجہاں تو ہی توُ
جس سے واقف نہیں ہم وہاں تو ہی تو ُ
زندگی تجھ سے ہے موت بھی تجھ سے ہے
یہ سماعت میری صوت بھی تجھ سے ہے
یہ میری زندگی ہے امانت تیری
اس امانت سے بڑھ کر تو کچھ بھی نہیں
ہے وباء جب تلک اپنے گھر میں ہوں میں
اے میرے مہرباں تیرے ڈر میں ہوں میں
اے خدا تیری حمدو ثناء میں رہوں !
ہرگھڑی ِذکرِ صلّ ِ علی’ میں رہوں !
تیری تسبیح تیری دعاء میں رہوں !
چپ رہوں صبر کی انتہا میں رہوں !
جو تیرا حکم ہو تیری مرضی سے ہے
مسجدیں بھی کھلیں گی یہ بازار بھی
پھر سے کعبہ میں ہوں گی وہی رونقیں
ٹھیک ہو جائیں گے سارے بیمار بھی
جو قرنطینہ میں ہیں پڑے لادوا
مانتے ہیں وہی جو ہے تیری رضا
کم نصیبوں کی قسمت میں کیا ہے لکھا ؟
ہم نہیں جانتے اے ہمارےخدا !
تیرے بندے ہیں چاہے خطارکار ہیں
ہم تو تیری عطا کے طلب گار ہیں
یہ وبا ٹال دے اے خدا ٹال دے
بخش دے ان کو جتنے بھی بیمار ہیں
تو نے سب کچھ بنایا ہے ترتیب سے
کچھ بھی ہٹ کر نہیں تیری ترکیب سے

Comments are closed.