شیشے میں اپنا عکس کئی بار دیکھنا

(محمد علی منظر)

شیشے میں اپنا عکس کئی بار دیکھنا
دروازہ دیکھنا کبھی دیوار دیکھنا

آتی نہیں ہے نیند کی دیوی ہمارے پاس لازم ہوا ہے صبح کے آثار دیکھنا

دشوار کام ہے مرے احباب کے لیے مصروف کار شخص کو بیکار دیکھنا

کیسا یہ مشغلہ ہے دریچے میں بیٹھ کر ساکت نگر کو دن میں کئی بار دیکھنا

بیزار آ چکا ہوں میں گھر میں پڑے پڑے
اب چاہتا ہوں رونق بازار دیکھنا

دنیا سے بے خبر، بہت آرام سے ہوں میں
لازم نہیں ہے صبح کا اخبار دیکھنا

Comments are closed.