زندگی کا دوام

(ڈاکٹر شاھدہ سردار)

یہ اتفاق نہیں ھے یہ اِک حقیقت ھے…..
دکھوں میں ڈوبے نظارے جو میرے ساتھ ھیں اب…..
ھمیشہ حوصلہ ھمت ہی میرا مان رہے…..
مسیحا بن کے میرے ہاتھ مہربان رہے……
جوان بوڑھے و بیمار ناتواں سے وجود…
کراہتے ھوئے جسموں کا لاعلاج مرض…..
جو اپنے دامن بیمار میں میں سمیٹے ہوئے…..
وہ ذرد ذرد سے چہرے بُجھی بُجھی آنکھیں….
زوال عمر کا اک خوف آنسوؤں کی نمی…..
نِڈھال جسم نجاتِ حیات کی خواہش……
تو ایسے…. درد کے لمحوں میں حوصلے کے ساتھ…..
بھری نگاہوں سے ہر بار مسکراتے ہوئے…..
سمیٹا ایسی ہی مغموم زندگانی کو……..
کسی کا درد بٹایا کسی کو ھمت دی……..
کسی کو لفظِ محبت سے آشنائی دی……..
کسی کو خود پہ حکومت کا درس سمجھایا…….
!! ھو دل میں حوصلہ ھمت محبتوں کا چلن…..
تو زندگی کی نمو کا وجود پاؤ گے……..
ھے گر خُدا سے محبت تو بندگی کا دوام……..
اگر ھے خود سے محبت تو زندگی کا دوام………
کہ اُس کے دم سے دُعا میں دوا میں برکت ھے……
ھر اک مرض کی شفا ھے اُسی کے ھاتھوں میں…
بس.. بس ایک بار اُسے دل رکھ کہ تم مانگو…..
دعائیں ساری فلک تک پہنچ ہی جائیں گی….
وہ.. میرے نرم سے لہجے میں ان کو سمجھانا….
اور ان کے دل کے حوصلے کو اور بڑھانا…..
تو پل میں…… تو پل میں…
حیات نو کے تصور سے مسکرانے لگیں……
دُکھی دُکھی سی وہ آنکھیں وہ ناتواں سے وجود….
بجھے بجھے ھوئے چہروں پہ رنگ لوٹ آئے……
تو زندگی سے محبت کا درس سمجھا کر………
جو اپنے دل کے دریچے میں جھانک کر دیکھا…….
تو کتنے اشک سر بام جگر رقصاں تھے……….

Comments are closed.