کِیمو

(عاطف جاوید عاطف)

عجب ہے تشکیلِ کیمیاگر
عجب مشّیتِ اِیزدی کی یہ ہر بُنٙت ہے
تمام خُلیوں کے مرکزے میں بس ایک دھاگا پِرو دیا ہے
کہ چند عناصر کی ایک ترکیبِ باہمی سے جُڑے ہوئے ہیں

اس ایک دھاگے میں لوحِ سادہ کی ہر لِپٹ پر
الیل بن کر حیاتِ خلیہ ہے ایستادہ
اور اُسکی تحلیل کا ہے “وعدہ” !!
معیاد جسکی نہ ایک کم ہے نہ ایک زیادہ ۔۔
یہ سارے خلیے اُسی مٙشّیتِ قاہرہ کے قدیم وعدے پہ روز مر مر کے جی رہے ہیں

یہی وفا اُنکی بندگی ہے !!
کہ روز مرنا ہی زندگی ہے !!

مگر خدایا یہ کیا غضب ہے
کہ چند خلیے جو تیری صنعٙتِ باہمی سے جڑے ہوئے تھے
عجب بغاوت کے ایک چلتر میں لگ گئے ہیں
ترے بنائےہوئے تناسب کی سر کشی میں
خود اپنی بُنتر میں لگ گئے ہیں ۔۔
یہ اپنی تشکیلِ نٙو میں اُلجھے
جڑیں بناتے ہیں بافتوں میں
لہو کے رستوں کو بند کرنے میں یوں مگن ہیں کہ خود ہی سُلطان ہو گئے ہیں ۔۔
ابھی مسیحا یہ کہہ رہے ہیں
کہ بافتوں میں بگاڑ لاتے بیمار سرکش یہ باغی خلیے لہو کا سرطان ہو گئے ہیں ۔۔۔
انہیں تناسب میں لانے والی دوآئیں ساری ہی بے اثر ہیں ۔۔

خدائے واحد اے کیمیا گر
توُ ہر تناسب بحال کرنے پہ مُقتدر ہے
یہ تیرے سرکش یہ باغی خلیے
سزائے کِیمو تو پاچکے ہیں
شِفائے کیِمو کے منتظر ہیں
کہ حکمِ تحلیل کب ملے گا

Comments are closed.