شہر آشوب

(حسن عباس رضا)

کتنی ہم لکھ پائے، کتنی بھول گئے
لاشیں گِنتے گِنتے ، گِنتی بھول گئے
یاد نہیں کب خوابوں کی تدفین ہوئی
دن اور چہلم کیا ، ہم برسی بھول گئے
شہرِ وفا میں پیار کا ایسا کال پڑا
اہلِ محبت رسمِ وفا ہی بھول گئے
جہاں پہ شام انگڑئی لے کر جاگتی تھی
اب وہ گلیاں اور وہ بستی بھول گئے
حسنؔ ، یہاں اک شہرِ نگاراں ہوتا تھا؟
کس نے اُس کی مانگ اُجاڑی بھول گئے

Comments are closed.