تنہائی کی سوغات

(آمنہ عالم)

چین کورونا سے جنگ جیت گیا

” تنہائی کی سوغات”

(چینی قوم کے نام)

میں بھی تنہا، تو بھی تنہا ،سب کی تنہا ذات ہے

دن بھی تنہا کاٹنا ہے اور تنہا رات ہے

آدمی کو خوف سارا آدمی کے لمس سے

جس طرف بھی آدمی ہے اس طرف ہی گھات ہے

جھیلنا ہے درد سارا اپنے پیاروں کے لئیے

خود سے لڑ کر جنگ ہم نے خود کو دینا مات ہے

کاٹنا ہے دوریوں کو اپنے یاروں کے لئیے

یار سے یادوں میں اپنا اک مسلسل ساتھ ہے

دوست چھوٹے ،رشتے ٹوٹے، راز تب ہم پر کھلا

مرتے دم تک ساتھ​ اپنے بس! خدا کی ذات ہے

ہاتھ کانپے خوف سے تو دی تسلی دل کو خود

‘ تھامنے کو ہاتھ اپنا دوسرا تو ہاتھ ہے’

پونچھنے کو ایک آنسو کتنے تھے احباب کل

آج سر زانو پہ رکھ کر اشک کی برسات ہے

کب ہے ممکن کوئی آئے آخری دیدار کو

کس قدر دکھ کی گھڑی ہے کیسے ستم کی بات

ہائے تنہا مرگئے تو قبر دی ہے مشترک

اب قیامت تک رہے گا اتنا لمبا ساتھ​ ہے

تیرگی کے بعد ہرسو کیسی اجلی دھوپ ہے

داستانوں میں ملے گی یہ جو کالی رات ہے

دھل گئے ہیں شہر سارے سج گئے ہیں بام ودر

زندگی کی واپسی تنہائی کی سوغات ہے

Comments are closed.