وبا کے موسم میں

(ڈاکٹر محمد اشرف کمال)

کمال کوششیں جاری ہیں روشنی کے لیے
کہیں تو راستہ ہوگا سلامتی کے لیے
کسی سے ہاتھ ملاوُ نہ اب گلے سے ملو
کہ احتیاط ضروری ہے زندگی کے لیے
نکل کے گھر سے نہ جاوُ وبا کا موسم ہے
پڑا ہوا ہے بہت وقت دوستی کے لیے
علوم اپنی جگہ ہیں علاج اپنی جگہ
مگر دعا بھی ضروری ہے بندگی کے لیے
کسی کو بھوک سے مرتے ہوئے نہ دیکھ سکے
اب اتنا درد تو دل میں ہو آدمی کے لیے
ہزاروں سینکڑوں دن رات مرتے جا رہے ہیں
ہزاروں لوگ سسکتے بلکتے پھرتے ہیں
کہاں سے حرف چنوں ان کی بے بسی کے لیے
نظر کے سامنے دنیا اجڑ رہی ہے کمال
تڑپ رہے ہیں یہاں لوگ زندگی کے لیے

Comments are closed.