شب زدو آسمانوں کو تکتے رہو

(ازہر ندیم)

شب زدو آسمانوں کو تکتے رہو
بے کراں وسعتوں میں ستارے ہیں جو
فاصلوں پر پڑے جتنے مہتاب ہیں
سب کے سب پھول ہیں
سب کے سب خواب ہیں
رات کے اس شجر کی سبھی ٹہنیوں پر کھلے
گو ابھی دسترس سے ذرا دور ہیں
ایک تعبیر کی روشنی سے مگر سارے معمور ہیں
کتنی دنیاٸیں ہیں زندگی سے بھری
کتنے سیارے ہم کو بلاتے ہوۓ
ایک سورج یقیں کا ذرا کچھ پرے
تیرگی کے مناظر پہ ہنستا ہوا
شب زدو اپنی آنکھوں کو بجھنے نہ دو
خواب چُنتے رہو
گیت بُنتے رہو
یہ سیاہ وقت بس ختم ہونے کو ہے
اب سحر کی سفیدی بہت پاس ہے
شب زدو آسمانوں کو تکتے رہو!

Comments are closed.