زیست کی بے بسی نہ پوچھ

(محمد ادریس قریشی)

زیست امیدوبیم کے بِیچ سدا ہے کھیلتی
زیست کٹھن ہے امتحان چاہے نہ چاہے جھیلتی
شہر وباء میں گھِر کے یُوں زیست ہے اب بکھر رہی
زیست کی بے بسی نہ پوچھ زیست پہ کیا گزر رہی
ہاتھ ہٹا لیا گیا ، رُخ کو چھپا لیا گیا
لگتا ہے دستِ مہربان سر سے اُٹھالیا گیا
خوف سے زیست چھُپ گئی موت ہے اُس کی تاک میں
سارا عروج مِل گیا دیکھ یہ کیسے خاک میں
زیست کی یہ شکستگی گرچہ ہے آج صف بہ صف
سر بہ فلک بَلاؤں میں کچھ ہیں مسیحا سر بکف
خود کو مٹا کے روزوشب چارہ گری ہُنر ہُوا
چشمِ بہ نم صد آفرین خونِ جگر امَر ہُوا
کتنی قلیل ہے زمین کتنی علیل ہے زمین
یزداں پہ سب کی ہے نظر جس کی دلیل ہے زمین

Comments are closed.