توں چاہے تو ہم کو ڈرا لے

(ابن شبیر)

توں چاہے تو ہم کو ڈرا لے۔۔۔
چاہے جتنا زور لگا لے۔۔۔

نہ چھوڑیں گے ماسک لگانا
مصافحہ سنت نبوی ہے تو۔۔۔۔
وبا کے دنوں میں کنارہ کرنا۔۔۔
یہ بھی ایک سنت بڑی ہے

دہشت ہے تیری سارے جہاں میں
خوف ہے تاری ہر انساں میں
تیری دہشت، تیری وبا کو
ملے گی نہ مہلت یہاں پر

چند عناصر تھے دشمنوں کے
جو تجھ کو اپنے ساتھ لے آۓ
ابھی ہم سوۓ تو نہیں، غفلت میں
ذرہ دھیان کرنا، اے کرونا

جیسے مار بھگایا، ڈینگی کو
تجھے بھی نست ونابود کردیں گے
ابھی ہاتھ دھوۓ ہیں پانی سے
سینیٹاٸزر سے بھی دھو لیں گے

ابھی دین سے ہم بیزار ہوۓ تھے
اپنے آپ خوار ہوۓ تھے
قرآن سے ناتا توڑ چکے تھے
رب کو اپنے بھول چکے تھے

پر، توں نہ بھولنا اے کرونا
رب ہے رحیم رب ہے کریم
سب کی آہیں سنتا ہے وہ
بن مانگے ہی دیتا ہے وہ

ابھی تو میرے ہاتھ ہے خالی
میرے پاس عمال ہیں خالی
پر یہ نہ سمجھنا توں ہی سب ہے
بس اک میرا رب ہی سب ہے

عمال نہیں تو کیا ہوا
دل تو میرا نادم ہے نہ
رب اپنے کو مانتا ہے نہ
قرآن کو بھی پہچانتا ہے نہ

آنسوں ندامت کے بہاں دو گا
سر سجدے میں گرا دوں گا
پر رب کو راضی کر ہی لوں گا
تجھ سے بھی میں پھر لڑ لوں گا

توں کہتا ہے کہ توں ہی سب ہے۔۔؟
میں کہتا ہو رب ہی سب ہے۔

Comments are closed.