اے میرے حسنِ بیاں عشق کی وبا ہھوٹے

(کلیم احسان بٹ)

اے میرے حسنِ بیاں عشق کی وبا ہھوٹے
جہاں میں کھولوں زباں عشق کی وبا پھوٹے
تمہارا حسن سلامت رہے زمانے میں
خبر نہیں ہے کہاں عشق کی وبا پھوٹے
ہم ایسے لوگ تری آنکھ کے اشارے سے
وہیں مریں گے جہاں عشق کے وبا پھوٹے
نجانے کیا یہ مری خاک میں رکھا گیا ہے
جہاں بھی جاؤں وہاں عشق کی وبا پھوٹے
خدا کرے کہ سلامت رہیں یہ دل والے
جہاں جہاں بھی میاں عشق کی وبا پھوٹے
کسی کو دیکھتے رہنے سے موت ٹل جائے
خدا کرے کہ یہاں عشق کی وبا پھوٹے

Comments are closed.