دور تک تنہائیاں ویرانیاں بچھنے لگیں

(ڈاکٹر نزہت عباسی)
نظم کورونا
دور تک تنہائیاں ویرانیاں بچھنے لگیں
اب درودیوار پر خاموشیاں سجنے لگیں
زندگی اور موت کے اب فاصلے کم ہوگئے
وہ ہوا چلنے لگی کہ قربتیں مرنے لگیں
ہر طرف ہے خوف کا عالم خدایا خیر ہو
آپ اپنے آپ سے پرچھائیاں ڈرنے لگیں
اس طرح مایوسیاں پھیلی ہوئی ہیں جابجا
روشنی کے شہر میں بھی مشعلیں بجھنے لگیں
دب گیا شہنائیوں کا شور جس سے دفعتأٔ
گردش و آلام و غم کی نوبتیں بجنے لگیں
اس وبائے عام سے محفوظ تُو سب کو ہی رکھ
اے خدا ساری فضائیں اب دعا کرنے لگیں
اے کرونا تیرے باعث باغِ ہستی میں مرے
حبس ٹوٹا تو ہوائیں درد کی چلنے لگیں
عزم لیکن قوم کا بڑھتا رہا ہے اِس طرح
رشک جس پر دوسری اقوام بھی کرنے لگیں
اب مسیحا تیرے ہاتھوں زخم بھی بھرنے کو ہیں
موسمِ گل میں اُمیدیں چار سو کھلنے لگیں

Comments are closed.