ہمیں لڑنا تو ہے ڈرنا نہیں ہے

(اسد اعوان)

ہمیں لڑنا تو ہے ڈرنا نہیں ہے
کرونا سے مگر مرنا نہیں ہے

اِسی میں ہے تحفظ ہر کسی کا
قدم باہر کوئی دھرنا نہیں ہے

تجھے ملنا نہیں ہے خلوتوں میں
تجھے نزدیک بھی کرنا نہیں ہے

ترے پنگھٹ سے پانی چپکے چپکے
کسی گھبرو نے اب بھرنا نہیں ہے

اسد شہرِ نظر کے باسیوں میں
کسی کے حُسن پر مرنا نہیں ہے
اسد اعوان
اس وبائی عہد میں محصور ہونا پڑ گیا
دوستوں کو دوستوں سے دور ہونا پڑ گیا

اب جدائی کے دنوں میں مضطرب ہیں ہر گھڑی
ایک دوجے کے لیے رنجور ہونا پڑ گیا

شہر کی سڑکوں پہ اب ویرانیاں ہیں ہر طرف
ہر طرف ویرانیوں میں چور ہونا پڑ گیا

وہ تو پہلے بھی نہ ملتا تھا مجھے تنہائی میں
اس کو الٹا عشق میں مغرور ہونا پڑ گیا

ایک کمرے میں پڑے ہیں ہم کتابوں کی طرح
ہر کسی کی آنکھ سے مہجور ہونا پڑ گیا

میری رسواٸی تو پہلے بھی ہوٸی تیرے لیے
اب مجھے اس شہر میں مشہور ہونا پڑ گیا

وہ مجھے ملنے تو آ جاتا مگر اُس کو اسد
ہر طرح سے بے طرح مجبور ہونا پڑ گیا

Comments are closed.