قریہ قریہ نگر نگر خاموش

(سید جاوید حیدر ترمز)

قریہ قریہ نگر نگر خاموش
ہر دریچہ ہر ایک در خاموش
موت رقصاں ہے زندگانی پہ
ہر کوئ آج رہگزر خاموش
بھول آدم سے کیا ہوئ جانے
ہر دعا کا اثر ہوا خاموش
خوف طاری ہے یوں کرونا کا
شام خاموش ہے سحر خاموش
جب سے ڈیرے خزاں نے ڈالے ہیں
باغ کا ہے شجر شجر خاموش
خدمت خلق گر سمجھ آے
اس کا پاے ء گا تو اجر خاموش
جس پہ تکیہ ازل سے تھا جاوید
جانے کیوں آج ہے نظر خاموش

Comments are closed.