ہوا کو محترم جانو

(ازہر ندیم)

ہوا کو محترم جانو
فضا کی بات مانو اب
ابھی امید کا لمحہ گریزاں تو نہیں تم سے
ابھی امکان کا موسم تمہارے ساتھ زندہ ہے
ابھی کچھ وقت باقی ہے
ابھی خود پر توجہ دو
کہ تم اس زندگانی کے تسلسل کا ذریعہ ہو
جسے پچھلے زمانوں نے امانت جان کر اک جسم بخشا ہے
یہ اسباب و علل کا سلسلہ جس حد تلک اب آن پہنچا ہے
اسے معروضیت کی آنکھ سے اب دیکھنا ہوگا
تمہیں اب سوچنا ہوگا
کہ اس نقطے سے آگے اب بھلا کیسے سفر آغاز کرنا ہے
بدلنا خود کو کیسے ہے
صبر کا ،امتناع کا کس طرح اطلاق کرنا ہے
ابھی کچھ وقت باقی ہے
ہوا کو محترم جانو
فضا کی بات مانو اب!

Comments are closed.