اپنا ہی نام دے کر صدائیں لگائیے

(رضوانہ تبسم درانی)

اپنا ہی نام دے کر صدائیں لگائیے
تنہائیوں کے کرب کو کچھ تو گھٹائیے
مدت سے ذہن برف میں مبحوس ہوگئے
سوچوں میں اضطراب کی حدت بڑھائیے
ڈسنے لگا ہے اب تو سماعت کا ناگ بھی
اپنے لہو کا گیت نہ خود کو سنائیے
غیروں سے روشنی کی تمنا نہ کیجئے
اپنی ہی ذات سے کوئی سورج بنائیے
یہ دور بے حسی ہے یہاں جسم سرد ہیں
ہونٹوں سے خواہشات کے لاشے اٹھائیے
اپنی روایتوں سے بغاوت نہ کیجئے
دیوانہ آ رہا ہو تو پتھر ۔ اٹھائیے
اپنے لہو کا وقت کو نذرانہ دیجیے
تاریکیوں کے نام پہ شمعیں جلائیے
یہ دور پتھروں کی نمائش کا دور ہے
بازار میں اب آئینے لے کر نہ آئیے
اپنے لبوں پہ آج تبسم کے رنگ میں
محرومی کے لمحات کواب بھول جائیے

Comments are closed.