کل تک یہ گماں رکھتے تھے یزداں ہی نہیں ہے

(آصفؔ رضا شیخ)
کرونا وائرس
کل تک یہ گماں رکھتے تھے یزداں ہی نہیں ہے
اور آج کہ اک دوجے کی پہچاں ہی نہیں ہے
کیوں ختم ہوئی رونق بازار شہر میں
سڑکیں ہیں عمارات ہیں انساں ہی نہیں ہے
سب اپنے تحفظ کے تفکر میں ہیں کوشاں
بیمار ہے گر کوئی تو پرساں ہی نہیں ہے
ہر شے کے تصرف کا تکبر ہے کہاں اب
وہ درد ہے جس درد کا درماں ہی نہیں ہے
ہم اپنے گریباں میں ذرا جھانک کے دیکھیں
اب دل میں کوئی جذبہء ایماں ہی نہیں ہے
وہ شام ہو ، برما ہو کہ ہو خطہء کشمیر
احساس نہ ہو گر تو مسلماں ہی نہیں ہے
کیا راہ نکالیں گے فقط علم و ہنر سے
ہاتھوں میں اگر نسخہء قرآن ہی نہیں ہے
ناراض کہیں ہم سے نہ ہو پالنے والا
آفت ہے، محض گردش دوراں ہی نہیں ہے
کل تک تھے بڑے زعم میں یہ سوچ کے آصفؔ
حالات کی تبدیلی کا امکاں ہی نہیں ہے

Comments are closed.