ہم نے کیا کیاکہ زمانے کے

(نبیلہ اشرف)

ہم نے کیا کیاکہ زمانے کے
بازاروں سے نکالے گئے
بڑی بے دردی سے ہم لوگ
ان کاروباروں سے نکالے گئے
جیسے کسی شجر کےمقامی پرندے
طوفاں میں بیابانوں سے نکالے گئے
اور اب کہ شہر کےکم سخن لوگ
شعراء کے خیالوں سے نکالے گئے
کیوں نہ بخشی گئ گناہ کی فطرت
فرشتے کیوں نہ آسمانوں سے نکالے گئے

Comments are closed.