خیال رکھیئے

(انیس احمد)

کسی سے ملنا نہیں ہے کچھ دن ، خیال رکھیئے
وبا ہے پھیلی ،یہیں ہے کچھ دن ، خیال رکھیئے
ملیں گے ہم پھر اسی محبت سے ، وقت آئے
ابھی کرونا ، سمے حزیں ہے ، خیال رکھیئے
وہی ہے گھر بار ، عشق و الفت، گلاب و خوشبو
ہر ایک منظر حسیں یے ، کچھ دن خیال رکھیئے
خیال رکھیئے یہاں پہ ہر جان معتبر ہے
وبا کا جانا یقیں ہے ، کچھ دن ، خیال رکھیئے
ابھی ضروری ہے دوری ، سب ٹھیک ہو گا اک دن
فلک ، وہی ہے زمیں ہے ، کچھ دن ،خیال رکھیئے
ہوئے مقید نگر کے باسی خود اپنے گھر میں
ہر ایک گھر کا مکیں ہے کچھ دن ، خیال رکھیئے
مزاج بدلا ہوا ہے لمحوں کا ، بچ کے رہنا
انیس یہ اولیں ہے کچھ دن ، خیال رکھیئے

Comments are closed.