ہر طرف ہے تاریکی روشنی مقفل ہے

(شجاعت سحر جمالی)

ہر طرف ہے تاریکی روشنی مقفل ہے
کب سے میرے کمرے میں زندگی مقفل ہے

خواب خواب منظر ہیں کیا سراب منظر ہیں
آب آب آنکھوں میں تشنگی مقفل ہے

اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی سانحہ ہوگیا
آدمی کے ڈر سے اب آدمی مقفل ہے

میں سمے کی دھارا سے آگے بڑھ نہیں پایا
میرے دل کے گوشے میں اک گھڑی مقفل ہے

اب ترے تخیل کو اس لیے نہیں پرواز
اس وبال خانے میں آگہی مقفل ہے

پہلے ان کی زلفوں کے ہم اسیر رہتے تھے
اب تو ان کی زلفوں میں چاندنی مقفل ہے

تو طواف کعبہ کو اس لیے نہیں جاتا
تیرے دل کے مندر میں مورتی مقفل ہے

شہر میں وبا پھیلی اک سحر سزا پھیلی
جو جہاں پہ تھا آزاد وہ وہی مقفل ہے

Comments are closed.