مہتاب چُپ، ہَوا ساکن، احتیاط کر

(سحرتاب رُومانی)

مہتاب چُپ، ہَوا ساکن، احتیاط کر
کچھ دن کی بات ہے، کچھ دن احتیاط کر

اک خاص دائرے میں رہ، فاصلے سے مِل
میرے قریب آ، لیکن احتیاط کر

میں جانتا ہوں تُو بھی ہے اِن دنوں اُداس
گر ہو سکے تو ہر ممکن احتیاط کر

کرتے ہیں لوگ تیرے ظاہر پہ اعتماد
تیرا سیاہ ہے باطن، احتیاط کر

میں نے کہا کروں میں کیا؟ کچھ بتا مجھے
کہنے لگا مرا ضامن احتیاط کر

Comments are closed.