مدّتوں بعد کوئی بات ہوئی

(شاہد اشرف)

پھر وبا پھیل گئی
گرم سانسوں کا تصور نہ رہا , لمس کی لذّت نہ رہی
مرنے والوں کو خبر کیسے ہو
ہاتھ چھونے میں کوئی بھول ہوئی
یا کہیں زہر بھری سانس ہوا میں پھیلی
ڈر قریب آنے نہ دے
صرف اک سانس کی قربت پہ قضا وار کرے
شہر سنسان ہوئے , خوف کے سنّاٹے میں
چیزیں ناپید ہوئیں
عشق بھولے تھے اگر اہلِ دمشق
اہل ایماں کو خدا بھول گیا
جب کہیں جانے کی صورت نہ رہی
زندگی اپنی کشش کھو بیٹھی
ماسک پہنے ہوئے انساں سے گریزاں انساں
ایک دوجے سے پریشاں ہو کر
ہو گئے گھر میں مقید آخر
کار دنیا کی ہوس نے جنھیں ملنے نہ دیا
گھر کے افراد کے مابین ملاقات ہوئی
مدّتوں بعد کوئی بات ہوئی
—————
وبا سے بچ گیا تو……
میں اپنے گرد چلتے پھرتے, بوجھل, لڑکھڑاتے, ڈر کے مارے, ایک دوجے سے گریزاں , معجزے کے منتظر لوگوں کو دیکھے جا رہا ہوں
انھی کے درمیاں , میں بھی کہیں ہوں
اور فرصت کے دنوں کا سوچتا ہوں
کئی لوگوں سے ملنا چاہتا تھا
پھر بھی ملنے کا میسّر وقت ضائع کر رہا تھا
وبا سے بچ گیا تو پہلے اپنے خانداں کے اُن بزرگوں سے ملوں گا
جن کے البم میں مرا بچپن مہکتا ہے
میں اپنے گاؤں جاؤں گا
محلے کے پرانے نقش ڈھونڈوں گا
بہت سے دوستوں کے فون نمبر سیو کر کے بھول بیٹھا ہوں
مجھے جن کی خبر کوئی نہیں ہے
بتاؤں گا کہ میں زندہ ہوں لیکن دوسری جانب سے جانے کون بولے گا ؟
میں اپنے مہرباں اُستاد کے گھر میں قدم بوسی کو جاؤں گا
کئی شاگرد نالاں ہیں
گریڈوں نے غلط فہمی کو گہرا کر دیا ہے
اُن کو سینے سے لگا کر یہ کہوں گا
زندگی میں کامیابی ان گریڈوں کی نہیں محتاج ہوتی ہے
کتابیں جن کو پڑھنے کی کبھی نوبت نہیں آئی
اٹھا کر گرد جھاڑوں گا
انھیں روزانہ کی بنیاد پر پڑھنے کی کوشش بھی کروں گا
کبھی یونیورسٹی میں پسندیدہ جگہ پر راہداری میں ابھرتے قہقہے سننے کو جاؤں گا
جہاں اک چاپ کی خاطر مسلسل بیٹھنا تسکین دیتا تھا
وبا سے بچ گیا تو
ایک دن مرحوم بھائی کی لحد پر فاتحہ خوانی کو جاؤں گا
میں آدھا اس لحد میں دفن ہوں , آدھا زمیں پر منتظر ہوں
کسی کو کیا خبر ہے
اس وبا سے بچنے والوں میں نجانے کون شامل ہے ؟

Comments are closed.