آگ سی محوِ سفر چاروں طرف

(کرنل سید مقبول حسین)
آگ سی محوِ سفر چاروں طرف
بیقراری کے نگر چاروں طرف
پھر کوئ بستی الٹنے کو ہے اب
اک قیامت سر بسر چاروں طرف
شہر میں جلتی سی کچھ یہ بستیاں
خوف کے اندھے نگر چاروں طرف
دھیرے دھیرے رہ گئےگھٹ کر یہاں
موت نے پھیلائے پر چاروں طرف
سائے پر سائے دھرے ہیں اور ہے
سر سراہٹ خوف ڈر چاروں طرف

Comments are closed.