تماشائی

(عائشہ ناز)

پرندے ،جانور ،کیڑے مکوڑے

خالی گلیاں،خالی سڑکیں خالی شاپنگ مال

خالی مدرسے ، خالی دفاتر دیکھتے ہیں

اور پھر حیران ہو کر پوچھتے ہیں

یہاں پر کون آیا تھا

یہ کچھ کچھ موئن جو داڑو کے جیسا ہے

جہاں گلیاں بھی ہیں ،گھر بھی

مگر انسان غائب ہیں

یقیناً کوئی آفت آئی ہے

آپس میں باتیں کرتے کرتے مسجدوں کی سمت جاتے ہیں تو خالی مسجدیں پاکر بہت حیران ہوتے ہیں

اگرچہ اس سے پہلے بھی تو یہ خالی سی لگتی تھیں

مگر اس بار تو ان مسجدوں سے چند گنتی کے نمازی بھی

ہوئے غائب

تو کیا اس گھر کا مالک اور ہمارا رب

زمیں پر چلنے والے سارے لوگوں سے خفا ہے

پرندے ،جانور ،کیڑے مکوڑے سوچ کر ہی کانپ اٹھتے ہیں

چلو دیکھیں یقیناً سارے انساں اپنے مالک کے خفا ہونے پہ بےحد غمزدہ ہوں گے

یقیناً رو رہے ہوں گے

پرندوں دیکھ کر آؤ بتاؤ اپنے گھر میں قید یہ سب لوگ اس معبود کو کیسے مناتے ہیں

پرندے دیکھ کر آئے

تو سب کیڑے مکوڑے ،جانور ان کی طرف لپکے

مگر یہ کیا

پرندے رو رہے تھے

جانے کیا وہ دیکھ آئے تھے

Comments are closed.