کر لیا ہے بڑا فیصلہ رب نے

( انا شیخ )

کر لیا ہے بڑا فیصلہ رب نے
لرز رہا ہے زمین آسمان اب
آہ لگی ہے کسی مظلوم کی
اب وہ لوگ ہونےلگیں ہیں تنہا
آج مٹی کی کنکرکیاں سمٹ کر بیٹھی ہیں بس یہاں
لگتا قیامت ہے بر پا
اب اٹھی ہے خاک یہاں
لگتا ہے عرفات کا میدان یہاں
گھٹتا ہے دم یہاں جیسے
سوا نیزے ہو آفتاب عیاں
شاید لگی ہے معصوم کی آہ وہاں
جہاں ہوگی پیشی خاک کے پتلوں کی وہاں
دے گا بہت کڑی سزا
جو ایک توبہ پہ کر دیتا ہے رہا
اب جو توبہ کے دروازے کیے اس نے بند
تب کوٕی نہ بچ سکے گا اس کے قہر سے بندہ و پر
نہ بچ پاٸیں گے زمین کے شہنشاہ
جن کو دی ہے رب نے آزماٸش کی اک جگہ
ہوۓ وہ ناکام جو بن بیٹھے تھے زمین کے خدا
اب وہ خدا پوچھے گا جو خاک کے بن بیٹھے تھے خدا
بھول بیٹھے تھے صرف ہوتا ہے ایک خدا
جو ہم سب کو ہونا ہے فنا
خاک میں پھر کیسے آٸی انا
پھر یہ ہم کو ملی ہے سزا
اب ہم کو کرنی پڑے گی وفا
اپنی اطاعت سے رب کو لے منا
کرے گا رحم ہم پر
جو سچے دل سے دی صدا
پھر سکھا ہمیں صراطِ مستقیم کا راستہ
کروں گی میں بندگی تری جابجا
معاف کر دے اے میرے خدا
اب ہر سمت سے آتی ہے یہی صدا
سنبھال لینا اے میرے خدا
کرتا ہےمحبت تو ستر ماٶں سے کٸ گنا
کر دینا اب جلد شِفا
جو بسترِ مرگ پر پڑے ہیں بندہ خدا
کردے معاف ہم بشرِ خاکی کو
بشر کو مٶمن کی صفت کر عطا

Comments are closed.