زخم دیتی ہوا کو ماریں گے

( رانا عبدالرب )

زخم دیتی ہوا کو ماریں گے
حوصلے سے وبا کو ماریں گے

یہ وبا بھی ہوا کے مانند ہے
ہم دیے ہیں ہوا کو ماریں گے

صرف بندوں کو مار سکتے ہیں
درد کیسے دعا کو ماریں گے

یہ عداوت کی بات تم جانو
ہم تو اپنی انا کو ماریں گے

یہ بھکاری بھی ہیں فریبی بھی
اپنے حاجت روا کو ماریں گے

آسمانی خدا کی طاقت سے
ہر زمینی خدا کو ماریں گے

شعر گوئی عطا ہے مالک کی
لوگ کیسے عطا کو ماریں گے

Comments are closed.